Famous Leading Scientist Stephen Hawking died at 76

London Newsdesk Urdu (March, 14, 2018): After Albert Einstein, Stephen W. Hawking Wiki, the world’s second-ever scientist, passed away at the age of 76. Hocking family spokesman confirmed his death. World renowned Scientist Stephen Hawking was born on Oxford in British city on 8 January 1942. The Stephen Hawking Dies at 76; His Mind Roamed the Cosmos a great loss of modern science. 

In 1963 Hawking motor neuron disease re skarhuyy , which can not be used if they can speak or move but were concerned mental turprsht.

Stephen Hawking, scientific hero and icon, has died at 76

In 1988 he received a popularity from the “A Brief History of Time” in the world and in honor of the second most famous scientist after Albert Einsteinin the twentieth century. Hockey also gave a challenge to Physics.

In order to prevent travel from time to time, the laws had presented a theory “protection patience” in the light of physics so that the preservation time (history) could be preserved safely. Black hole and timing machines are two complicated rational themes, with research from Stephen Hocking, gaining a prominent place around the world. Stephen Ha King presented the latest scientific inquiry about Kansas ( Cosmology) in the first form of his “A Brief History of Time” in 1988, which was in common language and popularity in scientific books.

Set new records Later in 2006, in the book “A Buffer History of Time,” he presented a research in far-sighted fields in the eighth century, in a very easy way, in a very easy way, “Understanding the Brief History” The second part of the time. Last year, Stephen Hocking, a UK-based PhD magazine released by the Cambridge University, was released on a few days, breaking the study record in a few days. The Stephen Hawking, scientific hero and icon, has died at 76 will not we recovered.

: اسٹیفن ہاکنگ

اسٹیفن ہاکنگ بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کے معروف ماہر طبیعیات تھے۔ انھیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات (کونیات) کے میدان میں ہے۔ ان کی ایک کتاب وقت کی مختصر تاریخ یعنی A brief History of Time ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک نہایت اعلیٰ پائے کی کتاب ہے جس سے ایک عام قاری اور اعلیٰ ترین محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ ایک خطرناک بیماری سے دو چار تھے اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے تھے۔ لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی يہ بیماری ان کو تحقيقی عمل سے روک نہ سکی۔

: کارہائے نمایاں

1990ء میں ہاکنگ نے جب اپنے رفقائے کاروں کے مقالات کا مطالعہ کیا جس میں ٹائم مشین کو بنانے کا ذکر تھا تو وہ فوری طور پر اس بارے میں متشکک ہو گیا۔ اس کے وجدان نے اس کو بتایا کہ وقت میں سفر کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ مستقبل سے آیا ہوا کوئی بھی مسافر موجود نہیں ہے۔ اگر وقت کا سفر کرنا اتنا آسان ہوتا کہ جیسے کسی سیر و تفریح پر جانا تو مستقبل سے آئے ہوئے سیاح اپنے کیمروں کے ساتھ ہمیں تنگ کرنے کے لیے یہاں موجود ہوتے اور ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی درخواست کر رہے ہوتے۔ ہاکنگ نے ایک چیلنج دنیائے طبیعیات کو بھی دیا۔ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو وقت کے سفر کو ناممکن بنا دے۔ اس نے وقت کے سفر سے روکنے کے لیے قوانین طبیعیات کی طرف سے ایک “نظریہ تحفظ تقویم” (Chronology Protection Conjecture) پیش کیا ہے تاکہ “تاریخ کو مورخوں کی دخل اندازی سے بچایا جا سکے “۔

:حالات زندگی

شاید وہ شخص جس نے اپنے آپ کو بلیک ہول اور ٹائم مشین سے متعلق ریاضی کی موٹی موٹی مساوات سے سب سے زیادہ ممتاز کیا ہے وہ ماہر کونیات اسٹیفن ہاکنگ ہے۔ اضافیت کے دوسرے طالبعلموں کی طرح جنہوں نے اکثر اپنے آپ کو ریاضیاتی طبیعیات میں اپنے عہد شباب میں ہی ممتاز منوا لیا تھا، ہاکنگ اپنی جوانی میں کوئی خاص قابل ذکر طالبعلم نہیں تھا۔ بظاہر طور پر وہ انتہائی روشن ہونے کے باوجود اس کے استاد اکثر اس بات کو نوٹ کرتے تھے کہ وہ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس نے کبھی بھی اپنی پوری قابلیت کا استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر ایک 1962ء میں نقطۂ انقلاب آیا۔

اس نے آکسفورڈ سے جب سند حاصل کی اس کے بعد پہلی دفعہ اس نے بغلی دماغ کی خشکی یا لو گیرگ بیماری(Amyotrophic lateral sclerosis, or Lou Gehrig’s Disease) کی علامات کو محسوس کیا۔ اس خبر نے اس پر بجلی گرا دی جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ موٹر نیوران جیسے ناقابل علاج مرض کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ مرض ان عصبانیوں کو تباہ کر دے گا جو اس کے جسم کے تمام حرکت دینے والے افعال کو قابو میں رکھتے ہیں نتیجتاً وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے گا اور جلد ہی دار فانی سے کوچ کر جائے گا۔ شروع میں تو یہ خبر انتہائی دل گرفتہ تھی۔ پی ایچ ڈی کرنے کا کیا فائدہ ہوتا جب اس نے جلد ہی مر جانا تھا؟ ایک دفعہ جب اسے یہ جھٹکا مل گیا تو پھر اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی توجہ کو ایک جگہ مرتکز کر لیا، اس نے اضافیت کے انتہائی مشکل سوالات سے نمٹنا شروع کر دیا۔

1970ءکی دہائی کے شروع میں ہی اس نے اپنے امتیازی مقالوں کے سلسلے کو شایع کروانا شروع کیا جس میں اس نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آئن سٹائن کے نظریہ میں “وحدانیت “(جہاں ثقلی قوّت لامتناہی بن جاتی ہے، جیسے کہ کسی بلیک ہول کے مرکز میں اور بگ بینگ کی ساعت کے وقت ہوا تھا ) اضافیت کا ایک ناگزیر حصّہ ہے اور اس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (جیسا کہ آئن سٹائن سمجھتا تھا)

۔1974ء میں ہاکنگ نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ بلیک ہول مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں، وہ بتدریج شعاعوں کا اخراج کر رہے ہیں جس کو اب ہاکنگ کی اشعاع کہتے ہیں کیونکہ اشعاع بلیک ہول کے ثقلی میدان سے بھی گزر کر نکل سکتی ہیں۔ اس مقالے نے پہلی دفعہ کوانٹم نظریہ کے عملی اظہار کو نظریہ اضافیت پر برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اور یہ ابھی تک اس کا سب سے شاندار کام ہے۔ جیسا کہ امید تھی ویسا ہی ہوا۔ اس کی بیماری نے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ، پیر اور زبان کو مفلوج کر دیا۔

لیکن بیماری کے اثر کی شرح اس سے کہیں سست رفتار تھی جتنی کہ ڈاکٹروں کو شروع میں امید تھی۔ اس کے نتیجے میں اس نے کئی حیرت انگیز سنگ میل عبور کر لیے جو عام لوگ عام زندگی میں حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہ تین بچوں کا باپ بن گیا۔ (اب تو وہ دادا بھی بن گیا ہے۔ ) اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس نے چار سال بعد اس شخص کی بیوی سے شادی کر لی جس نے اس کے لیے آواز کو پیدا کرنے والا آلہ بنایا تھا۔ بہرحال اپنی اس بیوی کو بھی اس نے 2006ء میں طلاق دینے کے لیے دستاویز کو جمع کروا دیا ہے۔ 2007ء میں اس نے اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی جب وہ غیر ملک ایک جیٹ طیارے میں گیا جس نے اس کو بے وزنی کی حالت میں فضاء میں بلند کیا اور یوں اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی۔ اب اس کا اگلا مقصد خلا میں جانا ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا اگلا مقصد خلا میں جانا ہے۔ آج تو وہ مکمل طور پر اپنی ویل چیئر پر مفلوج ہے اور دنیا سے اس کا رابطہ صرف آنکھوں کے اشاروں سے رہتا ہے۔ اس مار دینے والی بیماری کے باوجود وہ اب بھی مذاق کرتا ہے، مقالات لکھتا ہے، لیکچروں کو دیتا ہے اور مختلف قسم کے تنازعات میں الجھا رہتا ہے۔ وہ اپنے آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ ان سائنس دانوں کی ٹیم کی بہ نسبت جن کو اپنے اوپر پورا قابو ہے کہیں زیادہ کام کا ہے۔ (اس کے کیمبرج یونیورسٹی کے رفیق سر مارٹن ریس ہیں جن کو ملکہ نے شاہی فلکیات دان نامزد کیا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہاکنگ کی بیماری اس کو تھکا دینے والے اعداد شمار کے حساب کتاب سے دور رکھتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اس کھیل میں اپنے آپ کو سر فہرست نہیں رکھ سکا لہٰذا اب وہ نئے اور تازہ خیالات کو تخلیق کرنے میں اپنی ساری توجہ صرف کیے ہوئے ہے جبکہ مشکل اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں اس کے طالبعلم ہی اس کی مدد کرتے ہیں۔ )

:وفات

14 مارچ 2018ء بروز بدھ اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

Find more about:

  • What is Stephen Hawking working on right now?
  • What happened to Stephen Hawking?
  • Stephen Hawking in Urdu
  • Stephen Hawking full history urdu
  • Stephen Hawking Urdu wiki pedia
  • Is Stephen Hawking still?
  • Who is the smartest person in the world?
  • Stephen Hawking
  • scientiststephen hawking death
  • stephen hawking books
  • stephen hawking scientist children
  • stephen hawking biography
  • scientist stephen hawking wiki
  • stephen hawking movies
  • what happened to stephen hawking scientist
  • stephen hawking scientist age